ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپورٹس / ملیشیاؤں کو مسلح کرنا ایرانی صدارتی مہم کا اہم ترین عنوان اصلاح پسند سیاسی رہ نما کا شام سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ

ملیشیاؤں کو مسلح کرنا ایرانی صدارتی مہم کا اہم ترین عنوان اصلاح پسند سیاسی رہ نما کا شام سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ

Sat, 13 May 2017 11:35:49    S.O. News Service

تہران،12مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران میں 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات امیدواروں کے اپنے اپنے سیاسی نقطہ ہائے نظر میں اختلافات کے باوجود بیرون ملک سرگرم شیعہ عسکریت پسند گروپوں کو مسلح کرنا قدر مشترک ہے۔ بیشتر امیدوار اپنی انتخابی مہمات کے دوران شام، عراق، یمن اور دوسرے علاقوں میں سرگرم شیعہ ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کو اپنی ترجیح میں شامل رکھے ہوئے ہیں۔ صدارتی انتخابات سے چند روز پیشتر ایران میں جاری انتخابی مہم شام میں جاری کشیدگی اور اس کے ایرانی انتخابات پر اثرات پر بھی بحث کی جا رہی ہے، بالخصوص ایران کی ایک سیاسی جماعت ’بلڈنگ کیڈر‘ کے سیکرٹری جنرل غلام حسین کرباسجی کے آتشیں بیان کے بعد شامی رجیم کے دفاع کا موضوع انتخابی مہم کا اہم عنوان بن چکا ہے۔
خیال رہے کہ ’بلڈنگ کیڈر‘ سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی تشکیل کردہ ہے اور اس کا شمار ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔حسن روحانی کی حمایت میں اصفہان شہر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین کرباسجی نے شام سے ایرانی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو شام میں خون خرابہ روکنے کے لیے جنگ اور قتل عام کے بجائے سفارتی اور سیاسی محاذ پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے تہران کی بیرون ملک عسکری تنظیموں کی مسلح امداد اور انہیں رقوم فراہم کرنے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔قبل ازیں تہران کے سابق میئر نے بھی شام میں مذہبی مقامات کے دفاع کی آڑ میں فوج کشی کی شدید مذمت کی تھی۔


Share: